یقین, Belief
Guest Post By: Shahrukh Siddique
یہ بات بہت آسان محسوس ہوتی ہے جب کوئی اللہ پر یقین کی بات کرتا ہے تو ہم جھپٹ کر بولتے ہیں جی ہاں ہمیں اللہ سے سب ہونے کا یقین ہے ہالنکے ایسا نہیں ہے یہ بات بس ہماری زبان ادا کرتی ہے کے ہمیں اللہ سے ہونے کا یقین ہے یہ بات دل میں نہیں اُترتی۔ اللہ سے ہونے کا مطلب ہے کے اِس بات پر یقین کے دُنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے موسموں کا بدلنا ستاروں کا چلنا،ہزاروں لاکھوں جانداروں کا پیٹ بھرنا ہماری سانسوں کا چلنا وغیرہ وغیرہ یہ سب اللہ کے حکم کا ہی محتاج ہے،یہ یقین کرنا کے ہمارے ساتھ جڑا ہر عمل اللہ سے اوجھل ہر گز نہیں ہے، اگر زبان یہ ادا کر رہی ہے کے اللہ ہماری شےرگ سے زیادہ قریب ہے تو اِس بات پر دل سے یقین رکھنا ہی دین ہے۔ مگر کیا ہم جیسا بول رہے ہیں کیا ہمارا یقین بھی اُتنا ہی پُختا ہے؟ ہر گز نہیں، آپ نے کبھی سوچا ہے کے جب ہم کوئی برائی کر رہے ہوں تنہائی میں مگر اچانک دور سے پائوں کے چاپ محسوس ہوں تو فوری ہم اُس کام کو چھوڑ دیتے ہیں مگر وہ ہستی جِس کے بارے میں ہماری زبان یہ ورد کرتے نہیں تھکتی کے اللہ ہماری شےرگ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے کچھ اوجھل نہیں ہے مگر اُس کی موجودگی کو ہم خاطر میں ہی نہیں لاتے ، ہم اپنے والدین سے برائی چھپ کر کرتے ہیں کے کہیں اُن کا اعتماد نہ ٹوٹ جائے مگر وہ ہستی جو ہم سے ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتی ہے اُس ہستی کے اعتماد کا ہمیں زرہ بھی خیال نہیں آتا۔ کیا یہی ہے اللہ پر یقین ؟
میری والدہ ایک ملک کا فرضی قصہ سنا رہیئں تھی کے ایک قبیلہ میں بادشاہ کا چنائو ایک سال کے لیئے کیا جاتا تھا اور سال ختم ہوتے ہی اُس قبیلے کے لوگ اُس بادشاہ کو کشتی پر بٹھا کر ایک ایسے جزیرے میں بھیج دیتے تھے جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی ۔ اب اس وجہ سے جو بادشاہ بھی آتا تھا وہ خوب عیاشی کرتا کیونکہ وہ جانتا تھا کے ایک سال کے بعد اُس کی باشاہت ختم ہو جانا ہے ۔ اسی طرح بہت سے بادشاہ آتے گئے اور لوٹ گھسوٹ کر جاتے گئے ، ایسے میں ایک بادشاہ ایسا آیا جو کہ گزرے بادشاہوں سے بلکل مختلف تھا۔ اُس نے اقدار میں آ کر کوئی لوٹ گھسوٹ نہ کی بلکہ اپنے قبیلے کے لیئے خوب کام کروائے اور دِن رات ایک کر دیا اپنے قبیلے کے لوگوں کی خدمت میں سارے قبیلے کے لوگ اس برتائو سے خاصے متاثر تھے بحرحال بل آخر اُس بادشاہ کا بھی وقت ختم ہو گیا اور اُسے بھی کشتی پر بیٹھا کر جزیرے کی طرف بہا دیا گیا۔ مگر اُس کے جانے کے بعد قبیلے کے لوگوں کو اْس کے کام یاد آئے اور انھوں نے فیصلہ کیا کے اُس بادشاہ کو واپس لایا جائے، جب قبیلے کے لوگ اُس جزیرہ میں پوہنچے تو کیا دیکھا کے اُس بادشاہ نے اُس جزیرے کو خوب سجایا ہوا تھا اور وہاں ہر آسائش موجود تھی تاہم بادشاہ سے پوچھا گیا کے یہ کیسے کر ممکن ہوا تو اُس نے جواب دیا کے میرے سے پہلے آئے سبھی بادشاہوں اُس جگہ پر عیاشی کی جو کے عارضی تھی یعنی ایک سال ے لیئے مگر میں وہاں عوام کے کام کرتا رہا اور اس جزیرے کو بناتا رہا کیوں کے وہاں مجھے صرف ایک سال رہنا تھا مگر یہاں ہمیشہ کے لیئے اب میں ایک سال کی مختصر زندگی کے لیئے نہ ختم ہونے والی زنگی سے تو سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا نا۔
اگر ہم اپنی زندگی پر نظر دہرائیں تو ہم بھی پہلے بادشاہوں کی طرح ایک محدود زند گی کے پیچھے نہ ختم ہونے والی زندگی کا سمجھوتا کر بیٹھے ہیں۔
اگر ابھی ہمیں ایک چھوٹا سا کلینک چلانے والا ڈاکٹر کہ دے کہ آپ کی ہلاکت چند دن میں واقعہ ہو جائے گی کسی بھی بیماری کی وجہ سے تو ہم بھاگے بھاگے اللہ کے اگے سجدہ ریز ہو جائیں گے اور ہماری خواہش یہ ہو گی کے سجدے سے جان نکلنے تک نہ اُٹھا جائے ، مگر جہاں پوری کائینات چلانے والا ہم سے یہ کہ رہا ہے کے دنیا ایک دھوکہ ہے اور اس دھوکے میں مت آنا ۔ حضرت علی سے زندگی کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے زمین سے خاک ہتھیلی پر رکھ کر پھوک مار کر کہا کہ یہ ہے زندگی ۔ اب دیکھا جائے تو ہم اس زندگی کے پیچھے اپنی آخرت قربان کیئے بیٹھے ہیں جہاں نا ختم ہونے والی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہے۔
تو ضرورت ہمیں اس وقت ہے اپنے یقینو ں کے بدلنے کی یقین اس بات کا کہ سب کچھ اللہ سے ہی ہوتا ہے اور اللہ کے غیر سے کچھ نہیں۔ اگر اسی یقین پر ہم مکمل طور پر چل پڑیں تو ہماری فلاح ہے۔




